محرم کے آتے ہی دنیائے اسلام میں مجالس و محافلِِ سید الشہداءکو ناامن بنانے کا ماحول تیار۔ امن و امان کی نام نہاد کمیٹیاں بناکر خطرات کا خاتمہ ناممکن،جبکہ ایامِ عزا ء ضرور متاثر ہوتے ہیں۔ ایامِ عزا میں افغانستان اور عراق میں مومنین کے لیے شدت پسندی اور ناامنی کا خطرہ قائم۔ حکومتِ پاکستان کی جانب سے سیکورٹی خدشات وی آئی پی شخصیات کے لیے ہوتے ہیں۔ آغازِ محرم الحرام سے ہی افغانستان میںشیعہ کشی کے واقعات پے درپے ہونا شروع۔عراق میں موجوددہشت گرد گروہوں کی جانب سے کربلا میں دہشت گردی کی آمادگی۔ مومنین نا امن ماحول کے باوجود بھرپور توجہ اور رغبت کے ساتھ مجالس میںشرکت یقینی بنائیں۔پاکستانی حکومت کی منتقلی کی وجہ سے مختلف انتظامی امور میںڈسپلن کے مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ مومنین مجالس میں بھرپور شرکت کے ساتھ مجالس کی حفاظت کی ذمہ داری کو بھی اپنا فریضہ سمجھیں۔مومنین اپنے اپنے علاقوں میں سکاوٹس گروپس کی شکل میں مجالس کی حفاظت اپنے ذمہ لیں۔ ایامِ عزا کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی سازش میں تین فریق مل کر یہ عمل انجام دیتے ہیں۔ امام راحل ؒ نے فرمایا تھا کہ جو بھی شیعہ سنی میںاختلاف ڈالتا ہے اور اس اختلاف کو ہوا دیتا ہےیہ نہ شیعہ ہے اور نہ ہی سنی ہے بلکہ دشمن کا آلہ کار ہے۔مومنین کا اس طرح توجہ کی بہت ضرورت ہے کہ مجالس عزا کو فرقہ وارانہ رنگ نہ دیں۔عزاداریِ امامِ حسین ؑ نے ہمارے اندر کتنی شعور و آگاہی پیدا کی؟عزاداریِ امامِ حسین ؑ نے ہمیں کتنا متعہد اور خدا کے قریب کیا؟ان مجالس نے ہمیں کتنا امامِ حسین ؑ، اہلِ بیت ؑ اور قرآن کے قریب کیا؟ان مجالس کے اندر ہمارے سامنے مقاصدِ قیامِ سید الشہداؑ کی کتنی وضاحت ہوئی؟ محرم وایامِ عزا کے فلسفے کو سمجھتے ہوئےمبلغینِِ دین کی جانب سے فریضہِ انبیاء نبھانے کی ضرورت خطیب و علماء ماہِ محرم میںلوگوں کے مجمع کے سامنے دقیق مطالعہ کے ساتھ فصیح و بلیغ تبلیغ کریں۔ امام علی ؑ نے خوارج کی طرف اپنا ایک خطیب بھیجا کہ جاؤ او ر ان کو خطبہ دو۔خوارج کے پاس جاکر اس شخص کا گلہ خشک ہوگیا اور آواز ہی نہیں نکل رہی تھی تو امیرالمومنینؑ نے واپس بلا کر ڈانٹا کہ ان کے سامنے خطبہ نہیں دے سکتے ۔ تم صرف راشن کے دشمن ہو،کیا یہ بہت بڑاکام ہے کہ انسان مطالعہ کر کےجائے اور ایک مجمع کے سامنے بیٹھ کر ایک موضوع بیان کردے۔ امام ؑ نے اس شخص کی سب کے سامنے سرزنش کی۔ تمام مبلغینِ دین بھرپور آمادگی کے ساتھ مقصدِ قیامِ سید الشہدا ؑ لوگوں کے سامنےبیان کریں۔اہدافِ کربلا سے لوگوں کوآشنا کرنا تمام مبلغینِ دین کے فرائض و وظائف میںشامل ہے ۔ایامِ محرم و ایامِ عزاداری ایامِ انقلاب جبکہ عزاداری خود ایک انقلابی عمل کا نام ہے۔مومنین شعور ، بیداری ، آگاہی کے ذریعے منبرِ حسینؑ کو تاجرانِ خونِ حسین سے پاک کریں۔ مومنین ان تاجران کے ذریعے ایسے سلسلے نہ اپنائیں کہ آئندہ نسلیں اسی کو معیار سمجھ لیں۔علماء و مبلغین رسول اللہ ﷺ سے ، امامِ حسین ؑ سے، دیگر آئمہ و اہلِ بیت ؑ سے محرم کا مواد لیں۔مکتبِ تشیع پر تکفیریت کے بعد نصیریت کے ناسور کی سب سے زیادہ یلغارپاکستان میں موجود، تمام مومنین و علماء نصیریت کے ناسور کے خلاف بغیر کسی خوفزدگی کے مل کر نہی عن المنکر کریں۔تکفیری گروہ میڈیا کے استعمال سے اسی ناسور کو بہانہ بناکر بے گناہ شیعہ مومنین کو شہید کرتے ہیں۔بانیانِ مجلس، عزاداران و خطباء ایامِ سید الشہدا ؑ کو بھرپورسادگی کے ساتھ ادا کریں۔محرم میں اسپیشل ڈیزائن شدہ کالے کپڑوں کی تیاری سے تقدسِ محرم مسخ ہونےکے مترادف۔ٹیکسٹائل ملوں کی جانب سے محرم الحرام کے لیے اپنا ڈیزائن متعارف کروانا افسوسناک عمل۔محرم الحرام میں لنگر والے گروہوں کی جانب سے مختلف فوڈ آئیٹم کے اسپیشل پیکج دیے جاتے ہیں       
Page # 1   Page # 2   Page # 3   Page # 4